شش و پنج

قسم کلام: اسم کیفیت

معنی

١ - حیرانی، ادھیڑ بن، تردد، اندیشہ، دبدھا۔ "میں اسی شش و پنج میں مبتلا رہ گیا اور پھلوں کو تکتا رہا . آواز نے مجھے چونکا دیا"      ( ١٩٨٧ء، حصار، ١٩ )

اشتقاق

فارسی میں صفت عددی 'شش' کے ساتھ حرفِ عطف 'و' بڑھا کر فارسی صفت عددی 'پنج' ملنے سے مرکبِ عطفی بنا۔ اردو میں بطور اسم استعمال ہوتا ہے اور سب سے پہلے ١٧٩٧ء کو "یوسف زلیخا" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - حیرانی، ادھیڑ بن، تردد، اندیشہ، دبدھا۔ "میں اسی شش و پنج میں مبتلا رہ گیا اور پھلوں کو تکتا رہا . آواز نے مجھے چونکا دیا"      ( ١٩٨٧ء، حصار، ١٩ )

جنس: مذکر